Thi Jis Ke Muqadar Mein Lyrics 332

تھی جس کے مقدر میں گدائی تیرے در کی

تھی جس کے مقدر میں گدائی تیرے در کی
قدرت نے اسے راہ دکھائی تیرے
 در کی

ہر وقت ہے اب جلوہ نمائی تیرے در کی
تصویر ہی دل میں اتر آئی تیرے
 در کی

ہیں عرض و سماوات تری ذات کا صدقہ
محتاج ہے یہ ساری خدائی تیرے
 در کی

انوار ہی انوار کا عالم نظر آیا
چلمن جو ذرا میں نے اٹھائی تیرے
 در کی

مشرب ہے مرا تیری طلب تیرا تصور
مسلک ہے مرا صرف گدائی تیرے
 در کی

در سے ترے الله کا در ہم کو ملا
اس اوج کا باعث ہے رسائی تیرے
 در کی

اک نعمت عظمیٰ سے وہ محروم رہ گیا
جس شخص نے خیرات نہ پائی تیرے
 در کی

میں بھول گیا نقش و نگار رخ دنیا
صورت جو مرے سامنے آئی تیرے
 در کی

تازیست ترے در سے مرا سر نہ اٹھے گا
مر جاؤں تو ممکن ہے جدائی تیرے
 در کی

صد شکر کہ میں بھی ہوں تیرے در کا
صد فخر کہ حاصل ہے گدائی تیرے
 در کی

پھر اس نے کوئی اور تصور نہیں باندھا
ہم نے جسے تصویر دکھائی تیرے
 در کی

ہے میرے لیے تو یہی معراج عبادت
حاصل ہے مجھے ناصیہ سائی تیرے
 در کی

رویا ھوں میں اس شخص کے پاؤں سے لپٹ کر
جس نے بھی کوئی بات سنائی تیرے
 در کی

پانے کو تو یہ شمس و قمر چرخ نہ پائے
کیا پایا اگر خاک نہ پائی تیرے
 در کی

پوسٹ کو شیئر کریں۔۔