kids stories in Urdu 185

بادشاہ اور شہزادی کی کہانی

Shehzadi (Princess) Ki Kahani – Kids Stories in Urdu
بادشاہ اور شہزادی کی کہانی

السلام علیکم بچو !  آج میں آپ کو ایک شہزادی کی کہانی کے بارے میں بتاؤں گا۔  ایک وقت کا ذکر ہے کہ ایک بہت خوشحال بادشاہ تھا اس  کی ایک چھوٹی سی  بیٹی  تھی۔ وہ اس سے بہت پیار کرتا تھا ۔ ایک بار شہزادی بیمار پڑ گئی۔ کئی ڈاکٹر بلائے گئے لیکن کوئی بھی اس کا علاج نہیں کر سکا۔ کیونکہ اس کی  بیماری کا پتہ ہی نہیں چل رہا تھا۔ ایک دِن بادشاہ اداس ہو کر شہزادی سے بولا سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا کروں۔ تمہارے علاج کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ یہ سُن کر شہزادی نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔

بابا  میرے لیئے چاند بنوا دیجئے۔ میں اس سے کھیلوں گی تو میری طبیعت ٹھیک ہو جائے گی۔ بادشاہ نے کہا ٹھیک ہے، میں آپ کیلئے چاند منگوانے کا انتظام کرتا ہوں۔  بادشاہ کے دربار میں بہت سے اہل شخص تھے۔ سب سے  پہلے اس نے اپنے وزیراعظم کو بلایا اور آہستہ سے کہا،  شہزادی  بیٹی کو کھیلنے کے لئے چاند چاہیے۔ آج نہیں تو کل رات تک ضرور آ جانا چاہیے۔  وزیر اعظم نے  حیرت سے کہا اور ساتھ ہی اس کی پیشانی پر پسینہ آ گیا۔  تھوڑی دیر بعد وہ بولا بادشاہ  صاحب میں دنیا کے کسی بھی کونے سے کوئی بھی چیز منگوہ سکتا ہوں۔ لیکن چاند کہاں سے لے کر آؤں۔

بادشاہ نے  وزیراعظم کو فوری طور پر دربار سے جانے کا حکم دیا اور کہا دوسرے وزیر کو میرے پاس بھیجو۔ دوسرے  وزیر کے آنے پر بادشاہ نے اُس سے بھی  چاند لانے کے لیے کہا،  تو وزیر نے  بھی  گھبراہٹ میں کئی دلیلیں  دیں اور آخر میں بولا ، چاند کوئی بھی نہیں لا سکتا ۔  وہ یہاں سے لاکھوں میل دور ہے۔ بادشاہ نے اسے بھی چلے جانے کیلئے کہا۔  اس کے بعد اس نے اپنے خزانچی کو بلایا وہ بھی شہزادی  کی خواہش  پوری کرنے سے قاصر رہا اور اس کو بھی جانے کا کہا اور دربار کے جوکر کو بلانے کا کہا۔ جوکر نے  آتے ہی  جھک کر سلام کیا اور پوچھا بادشاہ سلامت آپ نے مجھے بلایا۔   بادشاہ  رو کر بولا جب تک شہزادی کو چاند نہیں ملے گا اس کی     طبیعت ٹھیک نہیں ہو گی۔ کیا تم چاند لا سکتے ہو،  جوکر نے جواب دیا ہاں کیوں نہیں۔ لیکن پہلے مجھے  معلوم کرنا ہوگا کہ شہزادی کتنا بڑا چاند چاہتی ہے۔

 کوئی بات نہیں آپ فکر نہ کریں میں خود جا کر ان سے پوچھ لیتا ہوں۔ جوکر  براہ راست  شہزادی کے کمرے میں جا پہنچا۔  شہزادی نے جوکر کو دیکھ  کر پوچھا کیا تم چاند لے آئے ہو۔   جوکر نے جواب دیا ابھی تو نہیں لایا مگر جلد ہی لا دوں گا۔ تم یہ بتاؤ  چاند کتنا بڑا ہو شہزادی نے کہا وہ میرے انگوٹھے کے برابر ہو۔  جب میں آنکھوں کے سامنے انگوٹھے کا ناخن کر دیتی ہوں  تو وہ دکھائی نہیں دیتا ۔ جوکر بولا ، اچھا چاند کس چیز کا بنا ہے اور وہ کتنی اونچائی پر ہے۔  شہزادی بولی چاند سونے کا بنا ہے اور درخت کے برابر اونچا ہے۔ جوکر بولا ٹھیک ہے آج رات میں درخت پار چڑھ کر چاند اُتار لاؤں گا۔ جوکر خوش ہو کر بادشاہ کے پاس لوٹ آیا۔

جوکر نے اپنا منصونہ بادشاہ کو  بتایا بادشاہ منصوبہ  سن کر بہت خوش ہوا اگلے دن درباری  جوکرسُنار سے  ایک سونے کا چاند بنوا کر لے آیا اس نے چاند شہزادی کو دے دیا۔  شہزادی بہت خوش ہوئی۔ اس نے  چاند کو زنجیر ڈال کر گلے میں لٹکا لیا۔  اس کی طبیعت ٹھیک ہوگئی، مگر بادشاہ کو  یہ فکر کھائے جا رہی تھی۔ کہ جب  شہزادی کھڑکی سے  آسمان پر  چاند دیکھے گی تو کیا کہے گی۔ وہ  بہت پریشان ہو رہا تھا وہ سوچے گی  کہ اس کے والد بادشاہ سلامت نے اس سے جھوٹا وعدہ کیا تھا۔  رات کو جب چاند نکلا تو شہزادی  چاند کو   دیکھنے لگی۔ بادشاہ اور جوکر اس کے کمرے میں کھڑے تھے۔ جوکر نے شہزادی سے پوچھا  بتاو چاند تمہارے گلے میں لٹکا ہوا ہے پھر وہ  آسمان میں کیسے نکل آیا۔  شہزادی بولی ! جوکر تم تو بےوقوف ہو جب میرا ایک دانت  ٹوٹ جاتا ہے تو دوسرا نکل  آتا ہے۔ اسی طرح دوسرا چاند نکلا  ہے۔ شکریہ بابا۔ یہ سن کر بادشاہ نے سکون کی سانس لی۔ اور خوشی خوشی شہزادی کے ساتھ کھیلنے لگا۔

پیارے بچو! کیسی لگی آپ کو بادشاہ اور شہزادی کی کہانی امید کرتے ہیں آپ کو یہ کہانی اچھی لگی ہو گی۔ ہم آپ کیلئے ایسی کہانیاں لاتے رہیں گے۔

Payary bacho aap ko aaj ki badsha or shehzadi ki kahani kesi lagi umeed karty hain aap ko ye Urdu kahani ashi lagi hogi. Hum aap key aisi or maze dar Urdu Kahaniyan laty rahy gay. Or apny payary Kids ko ye stories sunaty rahy gay.

پوسٹ کو شیئر کریں۔۔