ctd killing in sahiwal 379

سانحہ ساہیوال میں نیا موڑ۔۔۔

سانحہ ساہیوال میں نیا موڑ۔۔۔

Sahiwal Killing – CTD Kills Innocent Family

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پولیس کے چیف سے ساہیوال میں جعلی تصادم کے دوران کیس کی سماعت کی۔

لاہور ہائی کورٹ نے منگل22 جنوری  کو پنجاب انسپکٹر جنرل پولیس جاوید سلیمی کو عدالتی کمیشن کے ذریعہ ساہیوال کی ہلاکتوں میں غیرجانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کرنے کی درخواست کی سماعت کی۔

سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے ہفتہ کے روز جعلی تصادم میں چار افرادکو  ہلاک کیا جن میں خیل ان کی بیوی نبیلہ، تیرا سالہ بیٹی اور پڑوسی ذیشان شامل تھے۔  ملک بھر میں اس افسوس ناک واقعے  میں بچ جانے والے تین زندہ بچوں کی ایک وڈیو سوشل میڈیا  پر وائرل ہوئی جو  اس واقعہ کے گواہ ہیں۔

پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ زیشان داش سے تعلق رکھتے تھے اور دہشت گردی کا کام کررہے تھے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ ایف آئی آر ، سی ٹی ڈی کے حکام کے  خلاف درج کی گئی اور  جو وزیر اعظم کے احکامات پر حراست میں لے گئے تھے۔ وکیل میاں آصف محمود نے پیر کے روز لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے درخواست کی کہ صوبائی حکومت کی طرف سے قائم کردہ جے آئی ٹی کو سچ تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو ان کے جرم کے ذمہ دارانہ طور پر ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔  درخواست دہندگان نے یہ دعوی کیا کہ یہ واقعہ لوگوں کی زندگی کا معاملہ تھا اور اعلی عدالت تحقیقات کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔  اس کا استدلال کیا گیا ہے کہ حکومت کو اس کاؤنٹر میں پوچھ گچھ کرنے کا ایک کمشنر بنانا چاہیے تھا۔ درخواست دہندگان نے دعوی کیا کہ حکومت شفاف تحقیقات نہیں چاہتی ہےساتھ ہی اس معاملے کو دیکھنے کے لئے عدلیہ کمیشن کے قیام کے لئے مطالبہ کیا ہے تا کہ ذمہ دار افراد کو سزائے موت دی جائے۔

درخواست دہندگان نے عدالت سے استداء  کی کہ اس واقعے کی انکوائری کے لئے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دینا چاہئے۔  انہوں نے پنجاب کے وزیر اعلی کو ہدایت کی کہ اس واقعے کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ کی نقل  جمع کرائے  اور جعلی پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ درخواست دہندگان نےساتھ یہ بھی درخواست کی کہ صوبائی حکومت کو ساہیوال واقعہ کے متاثرین کے لئے امدادی پیکج معاوضہ کی ہدایت کی۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمدشمیم احمد نے حکم   کیا کہ صرف وفاقی حکومت کو معاملہ کی تحقیقات کرنے کے لئے کمیشن بنانے کی طاقت ہے۔ حکومتی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لئے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور  ساتھ ہی حکومت اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے۔  سماعت کے لئے درخواست نامے کو قبول کرتے ہوئے جسٹس خان نے 24 جنوری کو آئی جی پولیس سلیمی  کو کیس سے متعلق تمام دستاویزات  کے ساتھ طلب کیا ہے ۔

اور ساتھ ہی لاہور ہائی کورٹ کےچیف جسٹس نے زور دیا کہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے۔ 

پوسٹ کو شیئر کریں۔۔