PM Imran khan address to nation 24 October 2018 271

وزیرِاعظم عمران خان کا قوم سے خطاب۔ 24 اکتوبر2018

وزیرِاعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

بدھ 25 اکتوبر کے روز وزیرِاعظم عمران خان نےقوم سے خطاب کرتے ہوے  کہا کہ اپوزیشن جماعتیں این آر او لینے کی کوششیں کر رہی ہیں میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ انھوں نے مزید اپنے خطاب میں کہا کہ اقتدار سنبھالتے ہی ہم پر قرضوں کا بوجھ پڑ گیا جس کا سارا بوجھ عوام پر مہنگائی کے ذریعے پڑ رہا ہے، ہم نے قرضوں کی قسطیں ادا کرنا ہیں، اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ دوست ممالک سے قرض لیں۔

خوشخبری – سعودی عرب  کامیاب دورہ

وزیرِاعظم عمران خان نے سعودی عرب کے کامیاب دورے پر عوام کو مبارک باد دی۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا  اگر سعودی عرب ہمیں  یہ پیکج نہ دیتا تو ہمیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانا پڑتا، آئی ایم ایف سے زیادہ قرض لیتے تو اس کا مزید بوجھ عوام پر پڑتا۔ وزیرِاعظم عمران خان نےاپنے خطاب  میں کہا کہ سعودی عرب نے پاکستانیوں کے لیے ویزا فیس کم کر دی ہے، ہم پاکستان میں سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات پیدا کریں گے۔ ایکسپوٹرز کی مدد کر رہے ہیں، ہم ایکسپورٹ بڑھائیں گے۔ انہوں نےمزید بتایا کہ میں قوم کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب سے خصوصی پیکج ملنے کے بعد ہمارے اوپر سے قرضوں کا پریشر ہٹ گیا ہے، انشا اللہ آئندہ چند دنوں میں قوم کو مزید خوشخبریاں سناؤں گا۔

 اپوزیشن کی کوشش- این آر او 

 اپوزیشن کی کوشش ہے کہ ہم پر دباؤ ڈال کر ہم سے این آر او لے لیں لیکن میں ان پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ سارے کان کھول کر سن لیں ایسا کبھی نہیں ہوگا، میں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا، اپوزیشن جو مرضی کر لے احتساب ہو کر رہے گا۔ عوام سے وعدہ کیا تھا کہ کرپٹ لوگوں کو جیل میں ڈالوں گا، جو مرضی کر لو، ملک میں احتساب کرنا ہے۔اگر احتجاج کرنا ہے بیشک کریں ہم ان کو کنٹینر دینے کو تیار ہیں  بلکہ ہم ان کو کھانا بھی دیں گیں۔

پیپلز پارٹی اور ن لیگ پر سخت تنقید کرتے ہوئےانھوں نے کہا کہ ابھی تو ہم سابق حکومتوں کے نقصانات کو پورا کر رہے ہیں،اُن کا جائزہ لے رہے ہیں سابق حکومتیں ورکرز کا ویلفیر فنڈز اور سٹیل ملز ملازمین کے پیسے کھا گئیں، دس سالوں میں انہوں نے جو کچھ کیا اور آج جمہوریت بچانےکیلئے کھڑے ہو گئے ہیں، دونوں جماعتوں کو ایسی باتیں کرتے ہوئے شرم نہیں آ رہی۔ دونوں جماعتوں نے دس سال ملک میں حکمرانی کی اور عوام کو بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا۔

ثالث کا کردار

انہوں نے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے اہم بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوشش کر رہے تھے کہ یمن کی لڑائی میں پاکستاں ثالث کا کردار ادا کرے، ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک میں لڑائی ختم ہو جائے۔ ہم کوشش کریں گے کہ مسلمان ممالک کو اکٹھا کریں، ۔

منی لانڈرنگ

وزیرِاعظم عمران خان نےاپنے خطاب  میں کہا کہ کرپشن ختم کیے بغیر ملک کا کوئی مستقبل نہیں، کبھی فالودے والے کے اکاؤنٹ سے پیسے نکل رہے ہیں، یہ پیسہ چوری ہو رہا ہے، یہی پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجا جاتا ہے، ڈالر چوری کر کے بیرون ملک لے جاتے ہیں۔

آڈٹ

وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان میں کرپشن نیچے آ رہی ہے، ہم منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں لیکن اپوزیشن جماعتیں نیب کے پرانے کیسز پر بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، ہماری حکومت نے تو کچھ بھی نہیں کیا، ان پر کیسز سابق حکومت میں بنے، ہم تو ابھی آڈٹ کروا رہے ہیں۔ عمران خان نے اپوزیشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کو پتا ہے کہ یہ کیا کر کے گئے ہیںِ، ان کو پتا ہے جب آڈٹ ہو گا تو ان کی کرپشن سامنے آئے گی، ان کی صرف ایک کوشش ہے کہ ان کو این آر او مل جائے۔

پوسٹ کو شیئر کریں۔۔