Namaz E Kasoof Ka Tarika 507

سورج گرہن (نمازِ کسوف) کا طریقہ

Namaz e Kasoof Ka Tarika in Urdu
سورج گرہن (نمازِ کسوف) کا طریقہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اسلام علیکم سورج یا چاند گرہن کی جب بھی بات کی جائے تو ہمارے ذہن میں طرح طرح کی باتیں گردش کرنے لگتی ہیں۔ اور ہم ایک عجیب طرح کی سوچ میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ یہ گرہن ہمارے لئے منہوس ثابت نہ ہو۔ اور ہمیں یہ چاند یا سورج گرہن کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا دے۔ اورپھر اس کے بعد ہم بہت سے تہمات میں جکڑے جاتے ہیں۔

سورج گرہن اور چاند گرہن کے متعلق ہمارا اسلام کیا کہتا ہے اورہمیں سورج گرہن اور چاند گرہن کے دورانیے کے وقت کیا کرنا چاہیے نیز ہم آپ کو نماز کسوف پڑھنے کا طریقہ بھی بتائیں گے۔ سورج گرہن اور چاند گرہن جادوگروں کے لئے تو بہت مفید ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ اس دورانیے کے وقت جس قسم کا بھی تعویز لکھتے ہیں وہ اپنا کام ضرور دیکھاتا ہے۔ مگر اسلام میں سورج اور چاند گرہن کے متعلق ہمیں صاف صاف بتایا گیا ہے۔

جس دِن ابراھیم فرزندِ رسولؐ کا انتقال ہوا سورج کو گرہن لگ گیا لوگوں نے کہا یہ ابراھیم کی انتقال کی وجہ سے ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی وسلم نے ارشاد فرمایا سورج اور چاند کسی کی موت اور حیات کی وجہ سے نہیں گرہناتے جب تم اسے دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو۔ اس کے علاوہ ایک اور واقعہ آپ لوگوں کو بتاتا چلوں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وعلی وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہو گیا صحابہ اکرام کو فکر ہوئی کہ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا عمل فرمائیں گے کیا کریں گے اس کی تحقیق کی جائے۔ جو حضرات اپنے اپنے کام میں مشغول تھے چھوڑ کر دوڑتے ہوئے آئے نوعمر لڑکے جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے ان کو چھوڑ کر لپکے ہوئے آئے۔ تاکہ یہ دیکھیں کہ حضور علیہ وآلہ وسلم اس وقت کیا کریں گے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی وسلم نے دو رکعت کسوف کی نماز پڑھی جو اتنی لمبی تھی کہ لوگ رشک کھا کر گرنے لگے ۔ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی وسلم روتے تھے اور فرماتے تھے کہ “اے رب کیا آپ نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں فرما رکھا کہ آپ ان لوگوں کو میرے موجود ہوتے ہوئے عذاب نہ فرمائیں گے اور ایسی حالت میں بھی عذاب نہ فرمائیں گے کہ وہ لوگ استغفار کرتے رہیں”پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نصیحت فرمائی کہ جب بھی ایسا موقع ہو اور آفتاب یا چاند گرہن ہوجائے تو گھبرا کر نماز کی طرف متوجہ ہو جایا کرو میں جو آخرت کے حالات دیکھتا ہوں اگر تم کو معلوم ہوجائے تو ہنسنا کم کر دو اور رونے کی کثرت کردو” جب کبھی ایسی حالت پیش آئے تو نماز پڑھو، دعا مانگو اور صدقہ کرو۔

حاملہ عورتوں پر سورج گرہن کے اثرات۔
Suraj Grahan Aur Hamla Aurat

جہاں تک حاملہ عورتوں کی بات ہے تو ایک بات یاد رکھیے سورج اور چاند گرہن کے وقت ریڈی ایشن عروج پر ہوتی ہیں۔ جو کے کسی بھی انسان کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ اور جو بچے ماں کے پیٹ میں ہوتے ہیں وہ انتہائی نازک ہوتے ہیں۔ اس لیے حاملہ عورتوں کو گھر کے اندر ہی رہنا چاہیے۔
اس کے علاوہ سورج گرہن کے وقت چند مزید احتیاطی تدابیر اپنا لینی چائیے۔ سورج گرہن کے وقت بغیر کسی فلٹر والے چشمے کے بغیر سورج دیکھنے سے انسان ہمیشہ کے لیے اندھا ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس دوران سورج کی طرف نہ دیکھیں سورج گرہن کی وجہ سے درجہ حرارت ایک دم کم ہوجاتا ہےحاملہ خواتین سورج گرہن کے وقت گھر سے باہر نہ جائیں یا کھلے آسمان کے نیچے نہ جائیں۔

قرآن و سنت کے مطابق اعمال۔

قرآن اور سنت کے مطابق مسلمان سورج گرہن کے دوران اللہ پاک سے گناہوں کی توبہ کریں اور نماز کسوف ادا کریں اور یہ وہ نماز ہوتی ہے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گرہن کے وقت پڑھا کرتے تھے مجھے امید ہے کہ آپ سورج گرہن اور چاند گرہن کے وقت اللہ تعالی کی عبادت کریں گے اور اپنے گناہوں کی توبہ کریں گے اور صدقہ اور خیرات کریں گے خدا ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

اگر سورج گرہن ہے تو کسوف نماز ادا کی جائے گی اور اگر چاند گرہن ہے تو نماز خسوف پڑھی جائے گی۔

Namaz e Kasoof سورج گرہن کے وقت (نمازِ کسوف کی نیت)۔

میں نیت کرتا ہوں یا کرتی ہوں دو رکعت نمازِ نفل کسوفِ سمش کی، واسطے اللہ تعالی کے، پیچھے اِس اِمام کے ، رُخ میرا قبلہ شریف کی طرف، اللہ اکبر۔

نماز ِ کسوف کا طریقہ۔ Sun Eclipse Ki Namaz

یہ دو رکعت نماز نفل ادا کی جائے گی۔ چار قیام، چار رکوع، چار سجدے کے ساتھ ۔ نیت کر کے ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کر کے ہاتھ باندھ لینے ہیں۔ پھر سبحانک اللھم پڑھ کر سورہ فاتحہ پڑھی ہے، اس کے بعد طویل قرت کرنی ہےصحابہ اکرام کہتے ہیں کہ وہ جو طویل قرت تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اتنی دیر قیام کیا کہ اُس قیام میں سورۃ بقرہ پڑھی جاسکتی ہے تو طویل قیام کرنے کے بعد آپ رکوع میں جائیں گے۔ رکوع کی تسبیحات وہی ہیں لیکن اب رکوع تویل ہو گا وہی تسبیح آپ کئی دفعہ پڑھے گے یعنی طاق 3، 5، 7، 9، 11 اپنی مرضی سے طویل رکوع ہو گا۔ پھر رکوع کرنے کے بعد آپ کھڑے ہونگے سمع اللہ لمن حمدہ، ربنالک الحمد کہہ کر ہاتھوں کو دوبارہ باندھ لیں گے اب سجدے میں نہیں جائیں گے اور اب دوبارہ قیام کریں گے قرت شروع کر دیں گے۔ اب سورۃ فاتحہ دوبارہ نہیں پڑھیں گے دوبارہ تلاوت کرنا شروع کردیں گے لیکن اب تلاوت کا دورانیہ پہلے والی تلاوت کے دورانیہ سے تھوڑا کم ہوگا۔ اس کے بعد آپ پھر اب دوسرا رکوع کرینگے ابھی ہم پہلی رکعت میں ہی ہیں۔ دوسرا رکوع کریں گے اس میں رکوع کی تسبیحات بڑھیں گے جو نماز میں پڑھتے ہیں سمع اللہ لمن حمدہ، ربنالک الحمد کہہ کر اب سجدے میں جائیں گے ایک سجدہ کیا اس کے بعد بیٹھ گئے پھر دوسرا سجدہ کیا اب سجدے بھی ذرہ طویل ہونگے۔ دوسرا سجدہ کرنے کے بعد اب آپ کھڑے ہو جائیں گے۔

اب آپ نے پھر سے سورۃ فاتحہ پڑنی ہے اور قیام طویل کریں گے لیکن یہ پہلی والی رکعت کی دوسرے والے قیام والی قرت سے ذرہ کم ہو گی۔ اب آپ اس کے بعد دوسری والی رکعت میں پہلی دفعہ رکوع کریں گے ۔ رکوع کے بعد سمع اللہ لمن حمدہ، ربنالک الحمد کہتے ہوئے اٹھیں گے اس کے بعد آپ پھر قیام میں آجائیں گے۔ لیکن جس طرح آپ نے پہلی رکعت کے دوسرے قیام میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی تھی صرف قیام میں قرآن کی آیتیں پڑھنی شروع کردی تھی تو اب بھی ایسا ہی کرنا ہے قرآن پڑھنا شروع کر دینا ہے۔ لیکن یہ والا قیام پہلے والے قیام سے تھوڑا کم ہو گا۔ یعنی آپ جو بھی قیام کریں گے وہ پہلے والے قیام سے کم ہوگا ساری نماز میں آپ یہی طریقہ اپنائیں گے۔ اچھا دوسرے رکوع میں اب آپ جائیں گے دوسری رکعت میں پہلے رکوع سے اٹھنے کے بعد آپ نے قیام کیا، قیام کے بعد اب دوسرے رکوع میں جائیں گے دوسرے رکوع میں تسبیحات پڑھ کے ربنا لک الحمد تک آئینگے پہلا سجدہ کریں گے پھر آپ دوسرا سجدہ کریں گے اور اب آپ اتحیات میں بیٹھ جائیں گے اتحیات پڑھے گے درود شریف پڑھیں گے درود ابراھیمی پڑھیں گے اور اس کے بعد دعا پڑھ کہ آپ سلام پھیر لیں گے۔

پہلی رکعت میں قیام رکوع پھر قیام رکوح پھر سجدے– دوسری رکعت میں قیام رکوع پھر قیام رکوع ، سجدے، اتحیات، درود شریف، دُعا اور پھر سلام پھیر دیں۔

اچھا اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ بھائی ہمیں تو اتنی بڑی سورہ نہیں یاد تو آپ چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھ سکتےہیں، کئی صورتیں بھی پڑھ سکتے ہیں چھوٹی چھوٹی۔ ایک سورہ کو بھی کئی مرتبہ بھی پڑھ سکتے ہیں شرط یہ ہے کہ قیام طویل ہوجائے۔ قیام کی طوالت ہو جائے اتنا قیام ہو جائے کہ جتنا گرہن کا ڈیوریشن ہوتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو نمازِ کسوف کا طریقہ سمجھ آ گیا ہو گا۔ اپنے دوستوں کے ساتھ لازمی شئیر کیجئے گا۔ شکریہ

پوسٹ کو شیئر کریں۔۔
  • 7
    Shares