Jab rang par ha bahare Madina 246

جب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ

جب رنگ پر ہے بہارِ مدینہ
کہ سب جاتیں ہے نثارِ مدینہ

سرکار کا مدینہ، سرکار کا مدینہ
سرکار کا مدینہ، سرکار کا مدینہ

کھلا ہے سبھی کے لیے باب رحمت
وہاں کوئی رتبے میں ادنی نہ اعلی
مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی
‎قطاریں لگایں کھڑیں ہیں سوالی

میں پہلے پہل جب مدینے گیا تھا
تو تھی دل کی حالت تڑپ جانے والی
وہ دربار سچ مچ میرے سامنے تھا
ابھی تک تصور تھا جس کا خیالی
میں مبک ہاتھ سے دل سنبھالے ہوئے تھا
تو تھی دوسرے ہاتھ میں تھی ان کی جالی
دعاؤں کے لئے ہاتھ اٹھاتے تو کیسے
نہ یہ ہاتھ خالی، نہ وہ ہاتھ خالی

مدینہ مدینہ ہمارا مدینہ
ہمیں جان و دل سے ہے پیارا مدینہ
سہانہ سہانہ دلارا مدینہ
ہر عاشق کی آنکھوں کا تارا مدینہ

پہاڑوں پہ بھی حسن، کانٹے بھی دلکش
ہے قدرت نے کیسے سنوارا مدینہ
خدا گر قیامت میں فرما‎ۓ کہ مانگو
لگايں گے دیوانے نعرہء مدینہ

رگ گل کی جب نازکی دیکھتا ہوں
مجھے یاد آتے ہیں خار مدینہ

مبارک رہے عندلیبو تمھیں گل
ہمیں گل سے بہتر ہے خارِ مدینہ

رہیں ان کے جلوے بسیں ان کے جلوے
مرا دل بنے یادگارِ مدینہ
مراد دل بلبلے بے نوادے
خدایا دکھا دے بہار مدینہ

پوسٹ کو شیئر کریں۔۔