Istikhara Dua Karne ka Tarika in Urdu 241

استخارہ کرنے کا صحیح طریقہ

(Istikhara Means) استخارہ کا مطلب۔

استخارے کا مطلب کیا ہوتا ہے خیر کی دعا مانگنا۔ ہمارے ہاں یہ بات بنی ہوئی ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید استخارہ غیب کا علم جاننے کا نام ہے۔ اِس کو ہم نے ایک قسم کی فال بنا لیا ہے۔ جبکہ فال لینا بھی اسلام میں پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ کیونکہ غیب کا علم تو اللہ کے سوا کسی اور کوہے ہی نہیں۔ کل کیا ہونے والا ہے یہ کسی کو نہیں پتہ کوئی شخص بھی جو یہ غیب دانی کا دعوی کرے یا اس قسم کی کوئی بھی باتیں کرے وہ ہمارے دین میں پسندیدہ نہیں ہے۔

استخارہ کیا ہے ، کیوں کیا جائے۔
Istikhara Kya Hai

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “استخارہ کرنے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا، مشورہ کرنے والا کبھی نادم نہیں ہوتا، کفایت شعاری سے کام لینے والا کبھی کسی کا محتاج نہیں ہوتا ” یعنی جو شخص مشورہ کرتا ہے اس کو پھر شرمندگی نہیں ہوتی اور جو شخص بچت سے کام لیتا ہے پھر وہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا ۔ کیونکہ وہ اپنی ضرورت کے وقت کے لئے پہلے سے ہی تیاری کر کے رکھتا ہے۔ اور اللہ تعالی سے استخارہ کرنا یعنی ایک طرح سے مشورہ کرنا بھی ہے اور خیر کی دعا مانگنا بھی ہے۔ یہ انسان کے لئے ایک سعادت کی بات ہے کہ وہ کسی اہم معاملے میں اپنے رب سے مشورہ کر رہا ہے۔اور پھر اس کے فیصلے پر راضی ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ تقدیر پر راضی ہونا یہ ایمان کا حصہ ہے۔ جب ہم استخارہ کرتے ہیں اور اس کی دعا پڑھتے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہے، دعا کے ترجمعے سے ہی آپ کو پتہ چل جائے گا۔

استخارہ کرنے کی فضیلت۔
Istikhara Namaz Ki Fazilat

حدیث پاک میں آتا ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جِس طرح ہمیں قرآن پڑھایا کرتے تھے اسی طرح ہر کام میں استخارہ کرنے کی بھی تعلیم دیتے تھے۔ فرماتے جب تم میں سے کوئی کسی اہم معاملے میں فکرمند ہو تو دو رکعت نفل پڑھے اور پھر یہ دعا پڑھے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے قرآن پاک کی کوئی صورت سیکھاتے تھےایسے ہی اپنے صحابہ کو یہ دُعا سیکھاتے تھے۔ اور ساتھ ہی کیا تعلیم دیتے کہ جب بھی کوئی اہم کام ہو یا اہم معاملہ ہو تو کیا کروں نفل پڑھ کر یہ دعا پڑھو۔ اہم کاموں میں خود مثلاً جس کی شادی ہے۔ شادی ایک اہم فیصلہ ہے زندگی کا ، جس کی شادی ہے وہ خودبھی پڑھے یہ نفل اور ماں باپ بھی پڑہیں۔

استخارہ کیلئے کسی کو کہنا کیسا ہے۔؟

ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ کچھ لوگ استخارہ کرنے والے پروفیشنل ہوتے ہیں ۔لوگ اُن کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لڑکے کا نام ہے یہ لڑکی کا نام ہے آپ اس کے بارے میں بتائیے کہ یہ رشتہ کامیاب رہے گی یا نہیں رہے گا۔ اب آپ بتائیں کہ تیسرے شخص کو کیسے پتا چل گیا ، اس کے پاس کون سا سورس ہے یہ جاننے کا کہ اس نے کل کے فیوچر میں جھانک کے دیکھ لیا کہ آج یہ رشتہ کامیاب ہوگا یا نہیں ہوگا۔ ایسی چیزیں بھی انسان کے لئے توحمات کے دروازے کھول دیتی ہیں اور اس کے پریشانیوں کا سبب بنتی ہے۔ اور ایسی چیزوں پر بھی یقین نہیں کرنا چاہئے کہ کیونکہ اللہ کے سوا غیب کا علم کسی کو نہیں۔ بعض لوگ کسی اور کو کہتے کہ تم میرے لیے استخارہ کر کے دو ۔ حلانکہ استخارے کی دعا میں لکھا ہے یا اللہ اگر یہ بات میرے لیے اچھی ہے تو آپ کردیں۔ اگر کوئی آپ کے لیے استخارہ کر رہا ہے تو وہ کیا پڑے گا۔ کہ میرے لیئے اچھی ہے تو کر دے یا زیادہ سے زیادہ یہ کہے گا کہ اے اللہ اس کیلئے اچھی ہے تو کر دے۔

استخارہ کرنے کا طریقہ۔
Istikhara Karne Ka Tarika In Urdu

استخارہ غیب جاننے کا ذریعہ نہیں ہوتا اس کا مسنون طریقہ کیا ہے یعنی استخارہ کس طرح کرنا چاہیےاستحصال زندگی میں جب بھی انسان کو کوئی اہم کام پیش آئے تو اس موقع پر انسان کو دو نفل پڑھ کر دعا مانگنی چاہیے۔اور وہ مسنون دعا کیا ہے۔ وہ مسنون دُعا یہ ہے

dua istikhara urdu
استخارہ کی دعا کا ترجمعہ۔
Istikhara Dua Urdu Translation Tarjma

ترجمہ ہے خدایا میں تجھ سے تیرے علم کے واسطے سے خیر کا طلبگار ہوں تیری قدرت کے ذریعے تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں اس لئے کہ تو قدرت والا ہے اور مجھے ذرا قدرت نہیں، تو علم والا ہے مجھے علم نہیں، تو غیب کی ساری باتوں کو خوب جانتا ہےخدایا اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے بہتر ہے میرے دین اور دنیا کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے ، تو میرے لئے اسے مقدّر کر دے ۔ یعنی جب کسی بھی کام کے لیے ہم استخارہ کرے تو اس کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اگر یہ چیز میری دنیا اور آخرت کے لحاظ سے اچھا ہے تو آپ اس کو میرے لیے مقدر کردے یعنی میری قسمت میں کردے۔ میرے لیے اس کو آسان کر دے، میرے لیے اس کو مبارک بنادے ۔ اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے برا ہے، میرے دین اور دنیا کے لحاظ سے، اور انجام کے لحاظ سے، تو اس کام کو مجھ سے دور رکھ اور مجھے اس سے بچا کے رکھ، اور میرے لئے خیر اور بھلائی مقدر کردے جہاں کہیں بھی ہو پھر مجھے اس پر راضی بھی کرتے ہیں۔ کتنی خوبصورت دعا ہے یہ ہے دراصل استخا رہ ۔

اب آپ سوچیئے کہ استخارے کی دعا کا نتیجہ کیا ہونا چاہیے یا تو کام ہو جائے یا پھر نہ ہو۔ اگر ہوجائے تو پہلے سے ہی ہم نے دعا مانگی کہ اے اللہ اب یہ ہمارے لئے بہت اچھا ثابت ہو۔ اور اگر نہیں ہوتا تو بھی ہمیں اس پر راضی ہوجا ناچاہیے تسلی ہونی چاہیے کہ اللہ کو منظور نہیں اور اس میں ضرور ہمارے لئے کوئی بہتر ی ہے۔ کہ اس کام کے ہونے کا سبب نہیں بنا اور اس طرح انسان جو بھی فیصلہ کرتا ہے اس پر نادم نہیں ہوتا۔ پشیمان نہیں ہوتا بعد میں پچھتاتا نہیں، اگر کام کرنے کے بعد انسان سمجھتا ہے کہ بہت اچھا رہا سب ٹھیک ہوگیا اور اچھا رہا تو بھی کیا سمجھتے ہیں کہ یہ میرے رب نے مجھے عطا کیا اس کو کوئی تکبر نہیں آتا ۔ اور اگر کام ہو جاتا ہے اور بعد میں انسان دیکھتا ہے کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلا تو بھی اس میں ندامت نہیں ہوتی کہ میں نے تو اللہ سے دعا کی تھی اگر پھر بھی ٹھیک نہیں ہوا تو اس میں بھی ضرور میرے لیے کوئی سبق ہوگا کوئی بہتری ہو گی۔

کیونکہ قرآن پاک میں یہ بھی آتا ہے ” ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں بہت پسند ہو اور وہی تمہارے لیے اچھی نہ ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں بالکل اچھی نہ لگتی ہوتمہارے دل کو نہ بھاتی ہو اور اس میں تمہارے لئے بہت بڑی بھلائی ہو۔

استخارے میں خواب کا نہ آ نا۔
Istikhara Mae Khwab ka Ana Ya Na Ana

بعض لوگ استخارے کے ساتھ خواب کو لازم کردیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ استخارہ اور خواب لازم و ملزوم چیز ہے۔ اکثر لوگوں کو کہا جاتا ہے استخارہ کر لیں تو پھر وہ کہتے ہیں اتنے دن استخارہ کیا ہمیں تو کوئی کو خواب نہیں آیا ابھی تک۔ بہت سے لوگ پریشان ہوتے رہتے ہیں ہمیں نہیں سمجھ آتی کوئی خواب نہیں آیا ابھی تک۔ یاد رکھیے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں استخارے کے لئے خواب کا آنا کوئی ضروری نہیں ہے۔وہ کیا ہے ایک دعا ہے کہ یااللہ ا گریہ کام اچھا ہے تو مبارک ہو، ہو جائے تو آسان ہو نہیں اچھا تو اس کو ہٹادیں دور کر دے مجھ سے۔ اگر آپ کی دعا قبول ہوگئی تو اس کام میں بہتری ہوئی تو ہو جائے گا اور اگر وہ ہو گیا تو وہ مبارک ثابت ہو گیا اور اگر بہتری نہیں تو وہ بات بننے ہی نہیں پائے گی ۔ استخارہ نہ تو نکالا جاتا ہے اور نہ ہی نکلوایا جاتا ہے استخارہ تو کیا جاتا ہے۔

نجومی کے پاس جانا کیسا ہے۔

ہمیں نجومی کے پاس جانے سے منع کیا گیا ہے، ہاتھ دیکھانے سے منع کیا ہے۔ چھپی باتیں معلوم کرانے سے ذائچے بنوانے سے منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ ساری چیزیں انسان کیلئے اچھی نہیں منع کیا گیا ہے۔ اسی لیے ہمارے دن میں ایسی کوئی چیز نہیں کہ کالی بلی راستے میں نظر آ گئی تویہ منحوس ہے۔ اگر کوّا بول پڑا تو کوئی آجائے گا، یا جوتی الٹ گئی تو کچھ ہو جائے گا ۔ ہمارے کلچر میں کچھ نہ کچھ ایسی باتیں عام ہوتی ہیں۔ کہ اگرصبح صبح فلاں شخص سے ملاقات ہوگی تو یہ میرے لئے اچھا نہیں۔

ہمارے دین میں کیا ہے کہ ہر خیر اور شر کا مالک اللہ ہے کوئی کسی کو نقصان نہیں دے سکتا جب تک اللہ نہ چاہیےکوئی کسی کو فائدہ نہیں پہنچا ۔ اس لیے ایک مومن وہ ہوتا ہے جو کاش یہ ہوتا کاش وہ ہوتا ان چیزوں پر یقین نہیں رکھتا۔ اور زیادہ کاش کہنے سے بھی منع کیا گیا کیونکہ یہ شیطان کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ یعنی شیطان کو انسان کے دِل میں وسوسے ڈالنے کا موقع مل جاتا ہے۔ انسان کے دل میں حسرتیں پیدا کرتا ہے اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ عزیز رشتہ دار گھر سے نکلتا ہے تو اچانک ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے تو عموماً لوگ کہتے ہیں کہ کاش وہ آج جاتا ہی نہ۔ کاش وہ آج ایسا نہ کرتا تو ایسا نہ ہوتا تو بات یہ ہےکہ کاش کی وجہ سے کوئی چیز بدلتی نہیں تقدیر کے اوپر ایمان ضروری ہے۔ اور تقدیر پر ایمان لانے والا مطمئن ہوجاتا ہے پرسکون ہو جاتا ہے کیونکہ اگر ہم تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے تو یاد رکھیں کہ ہم اللہ کے فیصلوں کو ٹال نہیں سکتے۔اور نہ ہی ہم اس میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔

اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “استخارہ کرنے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ “خدا سے استخارہ کرنا اولاد آدم کے لئے سعادت کا باعث ہے تقدیر پر راضی ہو جانا بھی اولاد آدم کے لئے سعادت یعنی خوش قسمتی کی بات ہے اور انسان کی بدبختی یہ ہے کہ وہ اللہ سے استخارہ نہ کرے اور خدا کی قضا پر یعنی تقدیر پر ناخوش ہو ، یہ بد بختی کی بات ہے ۔

پوسٹ کو شیئر کریں۔۔
  • 1
    Share