Ek main hi nahi un par qurban zamana hai lyrics 301

اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے

اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
جو ربِ دوعالم کا محبوب یگانہ ہے
اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے

کل جس نے ہمیں پُل سے خود پار لگانا ہے
زہرہ کا وہ بابا ہے ، سبطین کا نانا ہے
اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
اس ہاشمی دولہا پر کونین کو میں واروں

جو حسن و شمائل میں یکتائے زمانہ ہے
اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
عزت سے نہ مر جائیں کیوں نام محمد پر
ہم نے کسی دن یوں بھی دنیا سے تو جانا ہے

اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
ہوں شاہِ مدینہ کی میں پشت پناہی میں
کیا اس کی مجھے پروا دشمن جو زمانہ ہے
اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے

سو بار اگر توبہ ٹوٹی بھی تو کیا حیرت
بخشش کی روایت میں توبہ تو بہانہ ہے
بخشش کی روایت میں توبہ تو بہانہ ہے
اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے

محرومِ کرم اس کو رکھئے نہ سرِ محشر
جیسا ہے “نصیر” آخر سائل تو پرانا ہے
اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے
پُر نور سی راہیں ہیں گنبد پہ نگاہیں ہیں

جلوے بھی انوکھے ہیں منظر بھی سہانا ہے
یہ کہ کے در حق سے لی موت میں کچھ مہلت
میلاد کی آمد ہے محفل کو سجانا ہے
آو در زہرہ پر پھیلائے ہوئے دامن

ہے نسل کریموں کی لجپال گھرانہ ہے
قربان اُس آقا پر کل حشر کے دن جس نے
اَس اُمت عاصی کو کملی میں چھپانا ہے

ہر وقت وہ ہیں میری دُنیائے تصور میں
اے شوق کہیں اب تو آنا ہے نہ جانا ہے
ہم کیوں نہ کہیں اُن سے رُو داد الم اپنی
جب اُن کا کہا خود بھی اللہ نے مانا ہے

پوسٹ کو شیئر کریں۔۔