dolay shah k choohay 474

حضرت شاہ دولا کے چوہے کی حقیقت کیا ہے۔۔۔

dolay shah ke chohay history

حضرت شاہ دولا کے چوہے کی حقیقت

ایک بار کسی علاقے کی مہا رانی حضرت شاہ دولا رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاظر ہو کر درخواست گزار ہوئی شاہ صاحب بھگوان نے مجھے دنیا کی ہر نعمت عطا کی ہے مگر اولاد سے محروم رکھا ہے مشہور ہے کہ آپ کی دعاؤں سے خالی دامن مرادوں سے بھر جاتے ہیں۔میں بھی اسی یقین کے ساتھ حاظر ہوئی ہوں۔ حضرت شاہ دولا رحمتہ اللہ علیہ نے مہارانی کی التجا سنتے ہوئے فرمایا حق تعالی اپنے بے مثال کرم کے صدقے میں تمہیں اولاد تو بخش دے گا مگر شرط یہ ہے کی تمہیں اپنی پہلی اولاد ہماری خانگاہ کے لیے وقف کرنی ہو گی۔

رانی نے جوش جذبات میں حضرت شاہ دولا رحمتہ اللہ علیہ کی شرط منظور کر لی اور اپنے محل واپس لوٹ گئی۔ پھر ایک سال بعد اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔ تو مہارانی کی نیت میں خلل واقع ہو گیا اور اس نے سوچا کہ میں کس طرح اپنے جگر گوشے کو ایک فقیر کی خانگاہ کیلئے وقف کر دوں۔ ممکن ہے کے اس لڑکے کے بعد میری کوئی اولاد ہی پیدا نہ ہو۔ اگر ہو بھی تو وہ لڑکی ہو الغرض مہارانی نے اپنے شوہر اور محل کے دیگر خدمت گاروں کو سختی سے تنبی کر دی کہ لڑکے کی ولادت کو پوشیدہ رکھا جائے۔ جب مہارانی اس خبر کو راز میں رکھنے کی تمام تیاریاں کر بیٹھی تو دوسرے دن حضرت شاہ دولا رحمتہ اللہ علیہ مہارانی کے خواب میں تشریف لائے اور نہایت پرجلال لہجے میں فرمایا یہ کھلی ہوئی بد عہدی ہے اور مردان حق سے بدعہدی کرنے والے کبھی با مراد نہیں ہوتے تم جس لڑکے کو ہم سے چھپا رہی ہووہ تمہارے کسی کام کا نہیں ہے۔ یہ لڑکا ہماری خانگاہ کیلئے ہی مناسب ہے۔ اتنا کہہ کر حضرت شاہ دولا رحمتہ اللہ علیہ تشریف لے گئے۔

خوف سے مہارانی کی آنکھ کھل گئی پھر جب اس نے دن کے اجالے میں اپنے نوزائیدہ لڑکے کو دیکھا تو حیرت کی شدت سے اسے کچھ دیر کیلئے سکتاسا طاری ہوگیا۔ لڑکے کا سر غیر معمولی طور پر چھوٹا تھا پھر مہارانی نے قرب وجوار کے تمام حکیموں کو طلب کر کے اپنے بچے کا معائنہ کروایا۔ پھر طب کے سارے ماہرین نے فیصلہ سنایا یہ ایک مجہوئی بچہ ہے طویل معالجے کے بعد بھی اس کے اعضاء اور دماغ درست حالت میں نہیں آ سکے گے۔آخر مہارانی شرمسار ہوئی اور اس مجہول بچے کو خانگاہ میں چھوڑ کر خالی دامن واپس چلی آئی۔ چند سال بعد یکے بعد دیگرے مہارانی کے کئی لڑکے پیدا ہوئے جو سب کے سب صحت مند اور توانا تھے اور ان میں کوئی جسمانی نقص موجود نہیں تھا۔بس اس روز سے یہی رسم جاری ہے کہ بے اولاد لوگ حضرت شاہ دولا رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک پر حاظر ہو کر اولاد کیلئے دعاکرتے ہیں اور پہلی اولاد کو خانگاہ پر وقف کرنے کا عہد کرتے ہیں تو ان کا پہلا بچہ مجہول ہوتا ہے۔ جس کا سر بہت چھوٹا ہوتا ہے۔

اب اس قسم کے بچوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ہےوہ بچے حضرت شاہ دولا رحمتہ اللہ علیہ کے چوہے کہلاتے ہیں ۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ یہ راز کیا ہے انسانی عقل تو اس کی توجہی پیش کرنے سے قاصر ہے۔

پوسٹ کو شیئر کریں۔۔
  • 1
    Share