Aaj ashk mere naat sunain to ajab kya lyrics 291

آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا

آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا
آواز کا یہ حُسن تو دِن چار رہے گا
یہ اشک میرے نعت سناتے ہی رہیں گے
آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا

سن کر وہ مجھے پاس بلائیں تو عجب کیا
ان پر تو گناہگار کا سب حال کھلا ہے
اس پر بھی وہ دامن میں چھپائیں تو عجب کیا
منہ ڈھانپ کے رکھنا کہ گناہ گار بہت ہوں

میت کو میری دیکھنے آئیں تو عجب کیا
مجرم کو نہ شرماؤ احباب کفن ڈھک دو
منہ دیکھ کے کیا ہوگا پردے میں بھلائی ہے
نہ زادِ سفر ہے نہ کوئی کام بھلے ہیں

پھر بھی وہ مجھے در پہ بلائیں تو عجب کیا
تمہاری یاد کو کیسے نہ زندگی سمجھوں
یہی تو اِک سہارا ہے زندگی کے لیے
میرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں یا رسول اللہ ﷺ

میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ﷺ ہی کے لیے
وہ حُسنِ دو عالَم ہیں ادیب اُن کے کر م سے
صحرا میں اگر پھول کھِلائیں تو عجب کیا

پوسٹ کو شیئر کریں۔۔