pakistani banks hacked 382

پاکستانی 22 بینکوں کے 19 ہزار سے زائد کارڈز ہیک

پاک سرٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 22 بینکز ہیکر کے نشانے پر۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی بینکوں کے 19 ہزار سے زائد کارڈز کا ڈیٹا چوری کیا گیا۔متاثرشدہ ڈیبٹ کارڈز ،کریڈٹ کارڈز، ویزہ اور ماسٹر کارڈ ز ڈارک ویب پر ایک سو ڈالر سے 160 ڈالرز تک میں فروخت ہو رہے ہیں۔

آخر یہ کب اور کیسے ہوا؟

اس راز پر پردہ 27 اکتوبرکو اس وقت فاش ہوا جب اسلامی بینک کے صارفین کو ان کے اکاؤنٹس سے رقوم کی منتقلی کا نوٹیفکیشن موصول ہوا۔جس کے نتیجے میں بینک اسلامی نے فوری ایکشن لیتے ہوے بیرونی ادائیگیوں کا سسٹم بند کر دیا اور ساتھ ہی دوسرے بینکوں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا کہ وہ ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعے بیرونے ملک ہونے والی تمام آن لائین ہونے والی ادائیگیوں کو بند کر دیں۔

pakistani banks hacked

پہلے مرحلے میں 9 ہزار کارڈز کا ڈیٹا فروخت کیلئے اپ لوڈ ہوا ؟

رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں ڈارک ویب پر 26 اکتوبر کو تقریبا 9 ہزار کارڈز کا ڈیٹا اپ لوڈ ہوا جس میں اسلامی بینک کے ساتھ دوسرے 8 بینکوں کے صارفین کا بھی ڈیٹا دیکھنے میں آیا۔ ڈارک ویب پر ایک کارڈ کی قیمت کم از کم 100 ڈالرز سے لے کر 130 ڈالرز مقرر ہے۔

26 اکتوبر کو جن بینکوں کے کارڈز کا ڈیٹا فروخت کیلئے ڈارک ویب پر ڈالا گیا۔

متاثرہ بینکوں میں حبیب بینک لمیٹڈ، دی بینک آف پنجاب ، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، بینک اسلامی، جے ایس بینک، سونیری بینک، فیصل بینک، بینک الفلاح ، سامبا بینک شامل ہیں۔

وسرے مرحلے میں 12 ہزار کارڈز کا ڈیٹا فروخت کیلئے اپ لوڈ ہوا ؟

پاک سرٹ کی رپورٹ کے مطابق 31 اکتوبر کو ڈارک ویب پر مزید 12 ہزار کارڈز کا ڈیٹا فروخت کرنے کے لیے ڈالا دیا جس میں 11 ہزار کارڈزکا تعلق پاکستان کے 21 بینکوں سے تھا۔

31 اکتوبر کو جن بینکوں کے کارڈز کا ڈیٹا فروخت کیلئے ڈارک ویب پر ڈالا گیا۔

متاثرہ بینکوں میں حبیب بینک لمیٹڈ، یو بی ایل، میزان بینک، ایم سی بی، بینک الفلاح، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، عسکری بینک، بینک الحبیب لمیٹڈ ، فیصل بینک، حبیب میٹروپولیٹن بینک، دبئی اسلامی بینک ، سمٹ بینک ، جے ایس بینک ، سونیری بینک ، سِلک بینک ، دی بینک آف پنجاب، البرکہ بینک ، سامبا بینک ، این آئی بی بینک اور کے اے ایس بی بینک شامل ہیں۔

سائبر سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ بظاہر بینکوں کے سروسز ہیک نہیں ہوئے بلکہ مقامی طور پر دکانوں اوراسٹورز پر لگی بینکوں کی اے ٹی ایم مشینوں میں گڑ بڑ کرکے صارفین کی معلومات چوری کی گئیں اور بعد میں ان کارڈز کی معلومات کو بیرون ملک فروخت کیا گیا۔

پوسٹ کو شیئر کریں۔۔